سپیکرز
آبدار خان کا پیش کردہ کلام
عشق تیرے سے لگاوے نہ خدا عار مجھے
عشق تیرے سے لگاوے نہ خدا عار مجھے نہ کرے دام رہائی میں گرفتار مجھے حسن اور عشق میں ایک طور سے نسبت ہے ضرور چشم بیمار تجھے دی ہے دل زار مجھے یار آیا پہ مجھے ہوش نہ تھا کیا کہئے نہ کیا اس دل دشمن نے خبردار مجھے سنگ طفلاں کی میں امید پہ ہوں دیوانہ تسپہ دیتے ہیں تغافل سے یہ آزار مجھے جب سے نظارہ کیا ترک ہوا ہوں دل سرد گرم رکھتا تھا یقیںؔ شعلۂ دیدار مجھے
کیا دل ہے اگر جلوہ گہہ یار نہ ہووے
کیا دل ہے اگر جلوہ گہہ یار نہ ہووے ہے طور سے کیا کام جو دیدار نہ ہووے کچھ رنگ نہیں نغمہ و آہنگ میں اس کے بلبل جو بہاراں میں گرفتار نہ ہووے دل جل جو گیا خوب ہوا سوختہ بہتر وہ جنس کوئی جس کا خریدار نہ ہووے شمشاد کو دیوے ہے قضا وار کے تجھ پر جو جامہ ترے قد پہ سزا وار نہ ہووے نیں باغ محبت میں یقیںؔ اس کو کہیں جا جس دل میں کہ داغوں ستی گلزار نہ ہووے