ہوا ہے شاہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتا
کلام: مرزا غالب
ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتاوگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے (مراز غالب)
مہمان شاعر: مرزا غالب
ہوا ہے شہ کا مصاحب پھرے ہے اتراتاوگرنہ شہر میں غالبؔ کی آبرو کیا ہے
غیر لیں محفل میں بوسے جام کےہم رہیں یوں تشنہ لب پیغام کے
خستگی کا تم سے کیا شکوہ کہ یہہتکھنڈے ہیں چرخ نیلی فام کے