درد ہو دل میں تو دعا کیجے
کلام: مرزا غالب
درد ہو دل میں تو دوا کیجےدل ہی جب درد ہو تو کیا کیجے
ہم کو فریاد کرنی آتی ہےآپ سنتے نہیں تو کیا کیجے
دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے (مراز غالب)
مہمان شاعر: مرزا غالب
درد ہو دل میں تو دوا کیجےدل ہی جب درد ہو تو کیا کیجے
ہم کو فریاد کرنی آتی ہےآپ سنتے نہیں تو کیا کیجے