11 اشعار

اور تو پاس مرے ہجر میں کیا رکھا ہے

Aur to paas mere hijr mein kya rakha hai

اور تو پاس مرے ہجر میں کیا رکھا ہے

«اور تو پاس مرے ہجر میں کیا رکھا ہے» حسرت موہانی کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ( حسرت موہانی)» میں 7 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 42 سیکنڈ ہے۔ یہ کلام سحرِ بیاں کی محفلوں میں 2 مرتبہ پیش کیا جا چکا ہے۔

اور تو پاس مرے ہجر میں کیا رکھا ہےاک ترے درد کو پہلو میں چھپا رکھا ہے

دل سے ارباب وفا کا ہے بھلانا مشکلہم نے یہ ان کے تغافل کو سنا رکھا ہے

تم نے بال اپنے جو پھولوں میں بسا رکھے ہیںشوق کو اور بھی دیوانہ بنا رکھا ہے

سخت بے درد ہے تاثیر محبت کہ انہیںبستر ناز پہ سوتے سے جگا رکھا ہے

آہ وہ یاد کہ اس یاد کو ہو کر مجبوردل مایوس نے مدت سے بھلا رکھا ہے

کیا تأمل ہے مرے قتل میں اے بازو یارایک ہی وار میں سر تن سے جدا رکھا ہے

حسن کو جور سے بیگانہ نہ سمجھو کہ اسےیہ سبق عشق نے پہلے ہی پڑھا رکھا ہے

تیری نسبت سے ستم گر ترے مایوسوں نےداغ حرماں کو بھی سینے سے لگا رکھا ہے

کہتے ہیں اہل جہاں درد محبت جس کونام اسی کا دل مضطر نے دوا رکھا ہے

نگہ یار سے پیکان قضا کا مشتاقدل مجبور نشانے پہ کھلا رکھا ہے

اس کا انجام بھی کچھ سوچ لیا ہے حسرتؔتو نے ربط ان سے جو اس درجہ بڑھا رکھا ہے

— حسرت موہانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں