9 اشعار

محبت کے عوض رہنے لگے ہر دم خفا مجھ سے

Mohabbat ke ewaz rehne lage har dam khafa mujh se

محبت کے عوض رہنے لگے ہر دم خفا مجھ سے

«محبت کے عوض رہنے لگے ہر دم خفا مجھ سے» حسرت موہانی کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے ( حسرت موہانی)» میں 7 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 20 سیکنڈ ہے۔

محبت کے عوض رہنے لگے ہر دم خفا مجھ سےکہو تو ایسی کیا سرزد ہوئی آخر خطا مجھ سے

ملیں بھی وہ تو کیونکر آرزو بر آئے گی دل کینہ ہوگا خود خیال ان کو نہ ہوگی التجا مجھ سے

قرار آتا نہیں دل کو کسی عنوان پہلو میںہوا ہے آشنا جب سے وہ کافر ماجرا مجھ سے

غنیمت ہے جہان عاشقی میں ذات دونوں کیکہ نام جور قائم تم سے ہے رسم وفا مجھ سے

فلک سے بھی ہے کیا بڑھ کر بلندی بام جاناں کییہ پوچھا کرتی ہے اکثر مری آہ رسا مجھ سے

مگر سیر چمن کو آج وہ پھر آنے والے ہیںابھی کچھ کہہ رہی تھی کان میں باد صبا مجھ سے

محبت بھی عجب شے ہے کہ با وصف شناسائینہیں ہوتی مخاطب وہ نگاہ آشنا مجھ سے

سکون قلب کی امید اب کیا ہو کہ رہتی ہےتمنا کی دو چار اک ہر گھڑی برق بلا مجھ سے

تقاضہ ہے یہی خوئے نیاز عشق بازی کانہ ہوگا اس سراپا ناز کا حسرتؔ گلا مجھ سے

— حسرت موہانی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں