مجبوریاں
کلام: اسرار الحق مجاز
میں آہیں بھر نہیں سکتا کہ نغمے گا نہیں سکتاسکوں لیکن مرے دل کو میسر آ نہیں سکتا
کوئی نغمے تو کیا اب مجھ سے میرا ساز بھی لے لےجو گانا چاہتا ہوں آہ وہ میں گا نہیں سکتا
کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی(اسرار الحق مجاز)
مہمان شاعر: اسرار الحق مجاز
میں آہیں بھر نہیں سکتا کہ نغمے گا نہیں سکتاسکوں لیکن مرے دل کو میسر آ نہیں سکتا
کوئی نغمے تو کیا اب مجھ سے میرا ساز بھی لے لےجو گانا چاہتا ہوں آہ وہ میں گا نہیں سکتا
عاشقی جاں فزا بھی ہوتی ہےاور صبر آزما بھی ہوتی ہے
روح ہوتی ہے کیف پرور بھیاور درد آشنا بھی ہوتی ہے