11 اشعار

مجبوریاں

Majbooriyan

مجبوریاں

«مجبوریاں» اسرار الحق مجاز کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی(اسرار الحق مجاز)» میں 14 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 40 سیکنڈ ہے۔

میں آہیں بھر نہیں سکتا کہ نغمے گا نہیں سکتاسکوں لیکن مرے دل کو میسر آ نہیں سکتا

کوئی نغمے تو کیا اب مجھ سے میرا ساز بھی لے لےجو گانا چاہتا ہوں آہ وہ میں گا نہیں سکتا

متاع سوز و ساز زندگی پیمانہ و بربطمیں خود کو ان کھلونوں سے بھی اب بہلا نہیں سکتا

وہ بادل سر پہ چھائے ہیں کہ سر سے ہٹ نہیں سکتےملا ہے درد وہ دل کو کہ دل سے جا نہیں سکتا

ہوس کاری ہے جرم خودکشی میری شریعت میںیہ حد آخری ہے میں یہاں تک جا نہیں سکتا

نہ طوفاں روک سکتے ہیں نہ آندھی روک سکتی ہےمگر پھر بھی میں اس قصر حسیں تک جا نہیں سکتا

وہ مجھ کو چاہتی ہے اور مجھ تک آ نہیں سکتیمیں اس کو پوجتا ہوں اور اس کو پا نہیں سکتا

یہ مجبوری سی مجبوری یہ لاچاری سی لاچاریکہ اس کے گیت بھی دل کھول کر میں گا نہیں سکتا

زباں پر بے خودی میں نام اس کا آ ہی جاتا ہےاگر پوچھے کوئی یہ کون ہے بتلا نہیں سکتا

کہاں تک قصۂ آلام فرقت مختصر یہ ہےیہاں وہ آ نہیں سکتی وہاں میں جا نہیں سکتا

حدیں وہ کھینچ رکھی ہیں حرم کے پاسبانوں نےکہ بن مجرم بنے پیغام بھی پہنچا نہیں سکتا

— اسرار الحق مجاز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں