ماہیت
کلام: مصطفی زیدی
میں سوچتا تھا کہ بڑھتے ہوئے اندھیروں میںافق کی موج پہ ابھرا ہوا ہلال ہو تم
تصورات میں تم نے کنول جلائے ہیںوفا کاروپ ہو احساس کا جمال ہو تم
کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی(اسرار الحق مجاز)
مہمان شاعر: اسرار الحق مجاز
میں سوچتا تھا کہ بڑھتے ہوئے اندھیروں میںافق کی موج پہ ابھرا ہوا ہلال ہو تم
تصورات میں تم نے کنول جلائے ہیںوفا کاروپ ہو احساس کا جمال ہو تم