نوجوان خاتون سے
کلام: اسرار الحق مجاز
حجاب فتنہ پرور اب اٹھا لیتی تو اچھا تھاخود اپنے حسن کو پردا بنا لیتی تو اچھا تھا
تری نیچی نظر خود تیری عصمت کی محافظ ہےتو اس نشتر کی تیزی آزما لیتی تو اچھا تھا
کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی(اسرار الحق مجاز)
مہمان شاعر: اسرار الحق مجاز
حجاب فتنہ پرور اب اٹھا لیتی تو اچھا تھاخود اپنے حسن کو پردا بنا لیتی تو اچھا تھا
تری نیچی نظر خود تیری عصمت کی محافظ ہےتو اس نشتر کی تیزی آزما لیتی تو اچھا تھا
حسن پھر فتنہ گر ہے کیا کہئےدل کی جانب نظر ہے کیا کہئے
پھر وہی رہ گزر ہے کیا کہئےزندگی راہ پر ہے کیا کہئے
تم سے مل کے ایسا لگا، تم سے مل کےارماں ہوئے پورے دل کے، اے میری جان وفا
تیری میری، میری تیری، ایک جان ہےساتھ تیرے رہیں گے سدا ، تم سے نہ ہونگے جدا