6 اشعار

عاشقی جاں فزا بھی ہوتی ہے

Ashiqi Jaan Faza Bhi Hoti Hai

عاشقی جاں فزا بھی ہوتی ہے

«عاشقی جاں فزا بھی ہوتی ہے» اسرار الحق مجاز کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «کچھ تمہاری نگاہ کافر تھی(اسرار الحق مجاز)» میں 14 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 35 سیکنڈ ہے۔

عاشقی جاں فزا بھی ہوتی ہےاور صبر آزما بھی ہوتی ہے

روح ہوتی ہے کیف پرور بھیاور درد آشنا بھی ہوتی ہے

حسن کو کر نہ دے یہ شرمندہعشق سے یہ خطا بھی ہوتی ہے

بن گئی رسم بادہ خواری بھییہ نماز اب قضا بھی ہوتی ہے

جس کو کہتے ہیں نالۂ برہمساز میں وہ صدا بھی ہوتی ہے

کیا بتا دو مجازؔ کی دنیاکچھ حقیقت نما بھی ہوتی ہے

— اسرار الحق مجاز

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں