ابھی حیرت زیادہ اور اجالا کم رہے گا
کلام: سلیم کوثر
ابھی حیرت زیادہ اور اجالا کم رہے گاغزل میں اب کے بھی تیرا حوالہ کم رہے گا
مری وحشت پہ صحرا تنگ ہوتا جا رہا ہےکہا تو تھا یہ آنگن لا محالہ کم رہے گا
میں خودبھی تیرےاندھیروں پہ مُنکشف نہ ہوا(سلیم کوثر)
مہمان شاعر: سلیم کوثر
ابھی حیرت زیادہ اور اجالا کم رہے گاغزل میں اب کے بھی تیرا حوالہ کم رہے گا
مری وحشت پہ صحرا تنگ ہوتا جا رہا ہےکہا تو تھا یہ آنگن لا محالہ کم رہے گا
ملنا نہ ملنا ایک بہانہ ہے اور بستم سچ ہو باقی جو ہے فسانہ ہے اور بس
لوگوں کو راستے کی ضرورت ہے اور مجھےاک سنگ رہ گزر کو ہٹانا ہے اور بس