مل ہی جائے گا کبھی دل کو یقیں رہتا ہے
کلام: احمد مشتاق
مل ہی جائے گا کبھی دل کو یقیں رہتا ہےوہ اسی شہر کی گلیوں میں کہیں رہتا ہے
جس کی سانسوں سے مہکتے تھے در و بام ترےاے مکاں بول کہاں اب وہ مکیں رہتا ہے
میں خودبھی تیرےاندھیروں پہ مُنکشف نہ ہوا(سلیم کوثر)
مہمان شاعر: سلیم کوثر
مل ہی جائے گا کبھی دل کو یقیں رہتا ہےوہ اسی شہر کی گلیوں میں کہیں رہتا ہے
جس کی سانسوں سے مہکتے تھے در و بام ترےاے مکاں بول کہاں اب وہ مکیں رہتا ہے