بس اک رستہ ہے اک آواز اور ایک سایا ہے
کلام: سلیم کوثر
بس اک رستہ ہے اک آواز اور ایک سایا ہےیہ کس نے آ کے گہری نیند سے مجھ کو جگایا ہے
بچھڑتی اور ملتی ساعتوں کے درمیان اک پلیہی اک پل بچانے کے لیے سب کچھ گنوایا ہے
میں خودبھی تیرےاندھیروں پہ مُنکشف نہ ہوا(سلیم کوثر)
مہمان شاعر: سلیم کوثر
بس اک رستہ ہے اک آواز اور ایک سایا ہےیہ کس نے آ کے گہری نیند سے مجھ کو جگایا ہے
بچھڑتی اور ملتی ساعتوں کے درمیان اک پلیہی اک پل بچانے کے لیے سب کچھ گنوایا ہے
چشم بے خواب ہوئی شہر کی ویرانی سےدل اترتا ہی نہیں تخت سلیمانی سے
پہلے تو رات ہی کاٹے سے نہیں کٹتی تھیاور اب دن بھی گزرتا نہیں آسانی سے