یہ جو بڑھتی ہوئی جدائی ہے
کلام: جمیل الدین عالی
یہ جو بڑھتی ہوئی جدائی ہےشاید آغاز بے وفائی ہے
تو نہ بدنام ہو اسی خاطرساری دنیا سے آشنائی ہے
تیرے خیال کے دیوارودر بناتے ہیں جمیل الدین عالی
مہمان شاعر: جمیل الدین عالی
یہ جو بڑھتی ہوئی جدائی ہےشاید آغاز بے وفائی ہے
تو نہ بدنام ہو اسی خاطرساری دنیا سے آشنائی ہے
عمر بھر بہ آسانی بار غم اٹھانے سےان پہ اعتبار آیا خود کو آزمانے سے
اس ہجوم میں تجھ کو کیا خبر ہوئی ہوگیکس کو کیا تعلق تھا تیرے آستانے سے