بیٹھا ہوں شمع عشق فروزاں کئے ہوئے
کلام: افقر موہانی
بیٹھا ہوں شمع عشق فروزاں کئے ہوئےاس سنگ در کو قبلہ ایماں کئے ہوئے
دل ہے متاع درد کا ساماں کئے ہوئےتیر نگاہ یار کو مہماں کئے ہوئے
ان سے میرے نصیب کا چکر بنا دیا افقر موہانی
مہمان شاعر: افقر موہانی
بیٹھا ہوں شمع عشق فروزاں کئے ہوئےاس سنگ در کو قبلہ ایماں کئے ہوئے
دل ہے متاع درد کا ساماں کئے ہوئےتیر نگاہ یار کو مہماں کئے ہوئے
وعدۂ وصل یار نے ماراشدت انتظار نے مارا
منفعل ہو کے یار نے ماراشکوۂ بار بار نے مارا