چلو مانا ہمیں بے کارواں ہیں
کلام: وزیر آغا
چلو مانا ہمیں بے کارواں ہیںجو جزو کارواں تھے وہ کہاں ہیں
نہ جانے کون پیچھے رہ گیا ہےمناظر الٹی جانب کو رواں ہیں
اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا)
مہمان شاعر: وزیر آغا
چلو مانا ہمیں بے کارواں ہیںجو جزو کارواں تھے وہ کہاں ہیں
نہ جانے کون پیچھے رہ گیا ہےمناظر الٹی جانب کو رواں ہیں
ساری عمر گنوا دی ہم نےپر اتنی سی بات بھی ہم نہ جان سکے
کھڑکی کا پٹ کھلتے ہی جولش لش کرتا