7 اشعار

تو جو رہ رہ کے محبت کا خدا بنتا ہے

Tu jo reh reh ke mohabbat ka Khuda banta hai

تو جو رہ رہ کے محبت کا خدا بنتا ہے

«تو جو رہ رہ کے محبت کا خدا بنتا ہے» دلاور علی آزر کا کلام ہے، جسے یادرفتگان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)» میں 28 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

تو جو رہ رہ کے محبت کا خدا بنتا ہےدیکھنا یہ ہے کہ اے دل ترا کیا بنتا ہے

کاش وہ شخص بڑا ہو کے دِکھائے بھی کبھیسامنے سب کے جو ہر وقت بڑا بنتا ہے

چھنتے چھنتے ہی نکلتے ہیں خد و خال نئےبنتے بنتے ہی کوئی نقش سِوا بنتا ہے

لطف جب ہے کہ تجھے باپ کی شفقت ہو نصیبماں کے ہونٹوں پہ تو ہر لفظ دعا بنتا ہے

جن کے دیوار و در و بام ہوں آسیب زدہان مکانوں سے مکینوں کا گِلہ بنتا ہے

ٹوٹتے رہتے ہیں اشکوں کے ستارے مجھ میںمیرے سینے میں ترا ہجر خلا بنتا ہے

کس کا اُسلوبِ سخن ہے ترے جیسا آزرفخر کرتا ہے جو تو خود پہ ترا بنتا ہے

— دلاور علی آزر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں