7 اشعار

خود اپنی آگ میں سارے چراغ جلتے ہیں

Khud apni aag mein saare chiragh jalte hain

خود اپنی آگ میں سارے چراغ جلتے ہیں

«خود اپنی آگ میں سارے چراغ جلتے ہیں» دلاور علی آزر کا کلام ہے، جسے امل خان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)» میں 28 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

خود اپنی آگ میں سارے چراغ جلتے ہیںیہ کس ہوا سے ہمارے چراغ جلتے ہیں

جہاں اترتا ہے وہ ماہتاب پانی میںوہیں کنارے کنارے چراغ جلتے ہیں

تمام روشنی سورج سے مستعار نہیںکہیں کہیں تو ہمارے چراغ جلتے ہیں

تمہارا عکس ہے یا آفتاب کا پرتویہ خال و خد ہیں کہ پیارے چراغ جلتے ہیں

عجیب رات اتاری گئی محبت پرہماری آنکھیں تمہارے چراغ جلتے ہیں

مری نگاہ سے روشن نگار خانۂ حسنمرے لہو کے سہارے چراغ جلتے ہیں

نہ جانے کون سی منزل ہے منتظر آزرؔکہ رہ گزر میں ستارے چراغ جلتے ہیں

— دلاور علی آزر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں