9 اشعار

آ کے دیکھو تو کبھی تم میری ویرانی میں

Aa ke dekho to kabhi tum meri veerani mein

آ کے دیکھو تو کبھی تم میری ویرانی میں

«آ کے دیکھو تو کبھی تم میری ویرانی میں» عدیم ہاشمی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

آ کے دیکھو تو کبھی تم میری ویرانی میںکتنے سامان ہیں اس بے سر و سامانی میں

آج بھی دیکھ لیا اس نے کہ میں زندہ ہوںچھوڑ آیا ہوں اسے آج بھی حیرانی میں

رات پھر تا بہ سحر شاخ افق خالی تھیچاند پھر ڈوب گیا تیری پیشانی میں

ساتھ دینا ہے تو دے چھوڑ کے جانا ہے تو جاتو اضافہ تو نہ کر میری پریشانی میں

آسمانوں کی طرف جیسے الٹ جائیں مکانعکس ایسے ہی نظر آئے مجھے پانی میں

یوں تو بچھنے کو بچھی چادر سیلاب مگرلہر کچھ اور بھی عریاں ہوئی طغیانی میں

خلعت گرد اتاری تو مقابل میں تھاآئینہ ڈوب گیا پردۂ حیرانی میں

دھوپ نکلے گی تو کہسار ہی پگھلیں گے عدؔیمبرف جتنی تھی و ہ سب بہ گئی طغیانی میں

جی میں جاد و ہی جگاتی چلی جاتی ہے عدؔیمجانے کیا شے ہے نہاں صورتِ انسانی میں

— عدیم ہاشمی