7 اشعار

کسی جھوٹی وفا سے دل کو بہلانا نہیں آتا

Kisi jhooti wafa se dil ko behlaana nahin aata

کسی جھوٹی وفا سے دل کو بہلانا نہیں آتا

«کسی جھوٹی وفا سے دل کو بہلانا نہیں آتا» عدیم ہاشمی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

کسی جھوٹی وفا سے دل کو بہلانا نہیں آتامجھے گھر کاغذی پھولوں سے مہکانا نہیں آتا

میں جو کچھ ہوں وہی کچھ ہوں جو ظاہر ہے وہ باطن ہےمجھے جھوٹے در و دیوار چمکانا نہیں آتا

میں دریا ہوں مگر بہتا ہوں میں کہسار کی جانبمجھے دنیا کی پستی میں اتر جانا نہیں آتا

زر و مال و جواہر لے بھی اور ٹھکرا بھی سکتا ہوںکوئی دل پیش کرتا ہو تو ٹھکرانا نہیں آتا

پرندہ جانب دانہ ہمیشہ اڑ کے آتا ہےپرندے کی طرف اڑ کر کبھی دانہ نہیں آتا

اگر صحرا میں ہیں تو آپ خود آئے ہیں صحرا میںکسی کے گھر تو چل کر کوئی ویرانہ نہیں آتا

ہوا ہے جو سدا اس کو نصیبوں کا لکھا سمجھاعدیمؔ اپنے کئے پر مجھ کو پچھتانا نہیں آتا

— عدیم ہاشمی