10 اشعار

فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا

Fāsle aise bhī hoñge yeh kabhī sochā na thā

فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا

«فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھا» عدیم ہاشمی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

فاصلے ایسے بھی ہوں گے یہ کبھی سوچا نہ تھاسامنے بیٹھا تھا میرے او ر وہ میرا نہ تھا

وہ کہ خوشبو کی طرح پھیلا تھا میرے چار سومیں اسے محسوس کر سکتا تھا چھو سکتا نہ تھا

رات بھر پچھلی ہی آہٹ کان میں آتی رہیجھانک کر دیکھا گلی میں کوئی بھی آیا نہ تھا

میں تیری صورت لئے سارے زمانے میں پھراساری دنیا میں مگر کوئی تیرے جیسا نہ تھا

یہ بھی سب ویرانیاں اس کے جدا ہونے سے تھیںآنکھ دھندلائی ہوئی تھی شہر دھندلایا نہ تھا

سینکڑوں طوفان لفظوں میں دبے تھے زیر لبایک پتھر تھا خموشی کا کہ جو ہٹتا نہ تھا

محفلِ اہلِ و فا میں ہر طرح کے لوگ تھےیا تیرے جیسا نہیں تھا یا میرے جیسا نہ تھا

آج اس نے در د بھی اپنے علیحدہ کر لیےآج میں رویا تو میرے ساتھ و ہ رویا نہ تھا

یاد کر کے او ر بھی تکلیف ہوتی تھی عدؔیمبھول جانے کے سوا اب کوئی چارہ نہ تھا

مصلحت نے اجنبی ہم کو بنایا تھا عدؔیمورنہ کب اک دوسرے کو ہم نے پہچانا نہ تھا

— عدیم ہاشمی