8 اشعار

پھر جُدائی، پھر جئے، پھر مر چلے

Phir judāī, phir jiye, phir mar chale

پھر جُدائی، پھر جئے، پھر مر چلے

«پھر جُدائی، پھر جئے، پھر مر چلے» عدیم ہاشمی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

پھر جُدائی، پھر جئے، پھر مر چلےلیکن اپنے دل کی جھولی بھر چلے

بڑھ رہی ہیں خواہشیں دل کی طرفجیسے حملے کے لیے لشکر چلے

اِنتظار اور اِنتظار اور اِنتظارکیسے کیسے مرحلے سَر کر چلے

زندگی ساری گزاری اِس طرحجس طرح رسّی پہ بازی گر چلے

وہ مَسل دے یا اُٹھا کر چُوم لےپُھول اُس دہلیز پر ہم دَھر چلے

ہے کوئی ایسا مرے جیسا عدیماپنے دل کو مار کر ٹھوکر چلے

چال اُس کی موچ سے بدلی عدیمسب حسیں ہلکا سا لنگڑا کر چلے

تُند خُو کا وہ رویہ تھا عدیمدل پہ جیسے کُند سا خنجر چلے

— عدیم ہاشمی