8 اشعار

اک کھلونا ٹوٹ جائے گا نیا مل جائے گا

Ik khilaunā ṭūṭ jaae gā nayā mil jaae gā

اک کھلونا ٹوٹ جائے گا نیا مل جائے گا

«اک کھلونا ٹوٹ جائے گا نیا مل جائے گا» عدیم ہاشمی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 10 سیکنڈ ہے۔

اک کھلونا ٹوٹ جائے گا نیا مل جائے گامیں نہیں تو کوئی تجھ کو دوسرا مل جائے گا

بھاگتا ہوں ہر طرف ایسے ہوا کے ساتھ ساتھجس طرح سچ مچ مجھے اس کا پتا مل جائے گا

کس طرح روکو گے اشکوں کو پسِ دیوار چشمیہ تو پانی ہے ، اسے تو راستہ مل جائے گا

ایک دن تو ختم ہو گی لفظ و معنی کی تلاشایک دن تو مجھ کو میرا مدعا مل جائے گا

ایک د ن تو اپنے جھوٹے خول کو توڑے گا وہایک دن تو اس کا دروازہ کھلا مل جائے گا

جا رہا ہوں اس یقیں سے اس کے چھوڑے گھر کی سمتجیسے وہ باہر گلی میں جھانکتا مل جائے گا

چھوڑ خالی گھر کو ، آ باہر چلیں گھر سے عدیمکچھ نہیں تو کوئی چہرہ چاند سا مل جائے گا

تیز ہوتی جا رہی ہیں دھڑکنیں ایسے عدیمجیسے اگلے موڑ پر وہ بے وفا مل جائے گا

— عدیم ہاشمی