8 اشعار

کیوں میرے لب پہ وفاؤں کا سوال آ جائے

Kyoñ mere lab pe vafāoñ kā savāl ā jaae

کیوں میرے لب پہ وفاؤں کا سوال آ جائے

«کیوں میرے لب پہ وفاؤں کا سوال آ جائے» عدیم ہاشمی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ ہے۔

کیوں میرے لب پہ وفاؤں کا سوال آ جائےعین ممکن ہے اسے خود ہی خیال آ جائے

ہجر کی شام بھی سینے سے لگا لیتا ہوںکیا خبر یونہی کبھی شامِ وصال آ جائے

گھر اسی واسطے جنگل میں بدل ڈالا ہےشاید ایسے ہی ادھر میرا غزال آ جائے

دھنک ابھرے سرِ افلاک کڑی دھوپ میں بھیدشتِ وحشت میں اگر تیرا خیال آ جائے

کوئی تو اڑ کے دہکتا ہوا سورج ڈھانپےگرد ہی سر پہ گھٹاؤں کی مثال آ جائے

چھوڑ دے وہ مجھے تکلیف میں ممکن تو نہیںاور اگر ایسی کبھی صورتِ حال آ جائے

اس گھڑی پوچھوں گا تجھ سے یہ جہاں کیسا ہےجب تیرے حسن پہ تھوڑا سا زوال آ جائے

کچھ نہیں ہے تو بھلانا ہی اسے سیکھ عدیمزندگی میں تجھے کوئی تو کمال آ جائے

— عدیم ہاشمی