8 اشعار

راحت جاں سے تو یہ دل کا وبال اچھا ہے

Rahat jaan se to ye dil ka wabaal achha hai

راحت جاں سے تو یہ دل کا وبال اچھا ہے

«راحت جاں سے تو یہ دل کا وبال اچھا ہے» عدیم ہاشمی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

راحت جاں سے تو یہ دل کا وبال اچھا ہےاس نے پوچھا تو ہے اتنا ترا حال اچھا ہے

ماہ اچھا ہے بہت ہی نہ یہ سال اچھا ہےپھر بھی ہر ایک سے کہتا ہوں کہ حال اچھا ہے

ترے آنے سے کوئی ہوش رہے یا نہ رہےاب تلک تو ترے بیمار کا حال اچھا ہے

یہ بھی ممکن ہے تری بات ہی بن جائے کوئیاسے دے دے کوئی اچھی سی مثال اچھا ہے

دائیں رخسار پہ آتش کی چمک وجہ جمالبائیں رخسار کی آغوش میں خال اچھا ہے

آؤ پھر دل کے سمندر کی طرف لوٹ چلیںوہی پانی وہی مچھلی وہی جال اچھا ہے

کوئی دینار نہ درہم نہ ریال اچھا ہےجو ضرورت میں ہو موجود وہ مال اچھا ہے

کیوں پرکھتے ہو سوالوں سے جوابوں کو عدیمؔہونٹ اچھے ہوں تو سمجھو کہ سوال اچھا ہے

— عدیم ہاشمی