11 اشعار

مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے

Mufahamat na sikha jabr-e-naarawa se mujhe

مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے

«مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھے» عدیم ہاشمی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 22 سیکنڈ ہے۔

مفاہمت نہ سکھا جبر ناروا سے مجھےمیں سر بکف ہوں لڑا دے کسی بلا سے مجھے

زباں نے جسم کا کچھ زہر تو اگل ڈالابہت سکون ملا تلخیٔ نوا سے مجھے

رچا ہوا ہے بدن میں ابھی سرور گناہابھی تو خوف نہیں آئے گا سزا سے مجھے

میں خاک سے ہوں مجھے خاک جذب کر لے گیاگرچہ سانس ملے عمر بھر ہوا سے مجھے

غذا اسی میں مری میں اسی زمیں کی غذاصدا پھر آتی ہے کیوں پردۂ خلا سے مجھے

میں جی رہا ہوں ابھی اے زمین آدم خورابھی تو دیکھ نہ تو اتنی اشتہا سے مجھے

بکھر چکا ہوں میں اب مجھ کو مجتمع کر لےتو اب سمیٹ بھی اپنی کسی صدا سے مجھے

میں مر رہا ہوں پھر آئے صدائے کن فیکوںبنایا جائے مٹا کے پھر ابتدا سے مجھے

میں سر بہ سجدہ ہوں اے شمرؔ مجھ کو قتل بھی کررہائی دے بھی اب اس عہد کربلا سے مجھے

میں کچھ نہیں ہوں تو پھر کیوں مجھے بنایا گیایہ پوچھنے کی اجازت تو ہو خدا سے مجھے

میں ریزہ ریزہ بدن کا اٹھا رہا ہوں عدیمؔوہ توڑ ہی تو گیا اپنی التجا سے مجھے

— عدیم ہاشمی