6 اشعار

سر صحرا مسافر کو ستارہ یاد رہتا ہے

Sar-e-sehra musafir ko sitara yaad rehta hai

سر صحرا مسافر کو ستارہ یاد رہتا ہے

«سر صحرا مسافر کو ستارہ یاد رہتا ہے» عدیم ہاشمی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 49 سیکنڈ ہے۔

سر صحرا مسافر کو ستارہ یاد رہتا ہےمیں چلتا ہوں مجھے چہرہ تمہارا یاد رہتا ہے

تمہارا ظرف ہے تم کو محبت بھول جاتی ہےہمیں تو جس نے ہنس کر بھی پکارا یاد رہتا ہے

محبت میں جو ڈوبا ہو اسے ساحل سے کیا لیناکسے اس بحر میں جا کر کنارہ یاد رہتا ہے

بہت لہروں کو پکڑا ڈوبنے والے کے ہاتھوں نےیہی بس ایک دریا کا نظارہ یاد رہتا ہے

صدائیں ایک سی یکسانیت میں ڈوب جاتی ہیںذرا سا مختلف جس نے پکارا یاد رہتا ہے

میں کس تیزی سے زندہ ہوں میں یہ تو بھول جاتا ہوںنہیں آنا ہے دنیا میں دوبارہ یاد رہتا ہے

— عدیم ہاشمی