13 اشعار

تیرے لیے چلے تھے ہم تیرے لیے ٹھہر گئے

Tere liye chale the hum tere liye thehar gaye

تیرے لیے چلے تھے ہم تیرے لیے ٹھہر گئے

«تیرے لیے چلے تھے ہم تیرے لیے ٹھہر گئے» عدیم ہاشمی کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 53 سیکنڈ ہے۔

تیرے لیے چلے تھے ہم تیرے لیے ٹھہر گئےتو نے کہا تو جی اٹھے تو نے کہا تو مر گئے

کٹ ہی گئی جدائی بھی کب یہ ہوا کہ مر گئےتیرے بھی دن گزر گئے میرے بھی دن گزر گئے

تو بھی کچھ اور اور ہے ہم بھی کچھ اور اور ہیںجانے وہ تو کدھر گیا جانے وہ ہم کدھر گئے

راہوں میں ہی ملے تھے ہم راہیں نصیب بن گئیںوہ بھی نہ اپنے گھر گیا ہم بھی نہ اپنے گھر گئے

وقت تری جدائی کا اتنا طویل ہو گیادل میں ترے وصال کے جتنے تھے زخم بھر گئے

ہوتا رہا مقابلہ پانی کا اور پیاس کاصحرا امڈ امڈ پڑے دریا بپھر بپھر گئے

وہ بھی غبار خواب تھا ہم بھی غبار خواب تھےوہ بھی کہیں بکھر گیا ہم بھی کہیں بکھر گئے

کوئی کنار آب جو بیٹھا ہوا ہے سرنگوںکشتی کدھر چلی گئی جانے کدھر بھنور گئے

آج بھی انتظار کا وقت حنوط ہو گیاایسا لگا کہ حشر تک سارے ہی پل ٹھہر گئے

بارش وصل وہ ہوئی سارا غبار دھل گیاوہ بھی نکھر نکھر گیا ہم بھی نکھر نکھر گئے

آب محیط عشق کا بحر عجیب بحر ہےتیرے تو غرق ہو گئے ڈوبے تو پار کر گئے

اتنے قریب ہو گئے اپنے رقیب ہو گئےوہ بھی عدیمؔ ڈر گیا ہم بھی عدیمؔ ڈر گئے

اس کے سلوک پر عدیمؔ اپنی حیات و موت ہےوہ جو ملا تو جی اٹھے وہ نہ ملا تو مر گئے

— عدیم ہاشمی