7 اشعار

تھا بہت بے درد لیکن حوصلہ دیتا رہا

Tha bahut be-dard lekin hausla deta raha

تھا بہت بے درد لیکن حوصلہ دیتا رہا

«تھا بہت بے درد لیکن حوصلہ دیتا رہا» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے ممتاز نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی» میں 21 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 7 سیکنڈ ہے۔

تھا بہت بے درد لیکن حوصلہ دیتا رہاوہ مجھے ہر شب نئے گھر کا پتہ دیتا رہا

میں اسے ڈھونڈا کیا جسموں کی جنت میں مگروہ مجھے خوابوں میں ملنے کی سزا دیتا رہا

کب اسے رکنے کی فرصت تھی غرور حسن میںمیں تعاقب میں رواں تھا میں صدا دیتا رہا

جل رہا تھا خود ہی بے مائیگی کی آگ میںمیں اسی دامن سے شعلوں کو ہوا دیتا رہا

گرچہ مہلک تھا مگر انصاف کی امید پرمدتوں اک زخم قاتل کو صدا دیتا رہا

میں تو اس کی جستجو میں تھا گزر آیا مگردشت ماضی دیر تک بوئے وفا دیتا رہا

سب سے پیچھے رہ گیا ہوں عرشؔ یوں اس دشت میںمیں سفر میں ہر کسی کو راستہ دیتا رہا

— عرش صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں