درد کو ہم زندگی کا کیف و کم کہتے رہے
کلام: عرش صدیقی
درد کو ہم زندگی کا کیف و کم کہتے رہےخامشی کے ساز پر روداد غم کہتے رہے
گوش بر آواز پوری بزم میں کوئی نہ تھاداستان آرزو کہنے کو ہم کہتے رہے
اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی
مہمان شاعر: عرش صدیقی
درد کو ہم زندگی کا کیف و کم کہتے رہےخامشی کے ساز پر روداد غم کہتے رہے
گوش بر آواز پوری بزم میں کوئی نہ تھاداستان آرزو کہنے کو ہم کہتے رہے
کیا ساتھ ترا دوں کہ میں اک موج ہوا ہوںبس ایک نفس عرض تمنا کو رکا ہوں
رہتا ہوں بگولوں کی طرح رقص میں بے تاباے ہم نفسو میں دل صحرا سے اٹھا ہوں