دل کہ آرائش عالم کا تماشا دیکھے
کلام: عرش صدیقی
دل کہ آرائش عالم کا تماشا دیکھےگر کبھی خود پہ نظر جائے تو صحرا دیکھے
آنکھ وہ آنکھ جو ہر قطرے میں دریا دیکھےتو مگر سامنے آ جائے تو پھر کیا دیکھے
اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی
مہمان شاعر: عرش صدیقی
دل کہ آرائش عالم کا تماشا دیکھےگر کبھی خود پہ نظر جائے تو صحرا دیکھے
آنکھ وہ آنکھ جو ہر قطرے میں دریا دیکھےتو مگر سامنے آ جائے تو پھر کیا دیکھے