7 اشعار

دل خوں ہے دل کا حال رقم ہو تو کس طرح

Dil khoon hai dil ka haal raqam ho to kis tarah

دل خوں ہے دل کا حال رقم ہو تو کس طرح

«دل خوں ہے دل کا حال رقم ہو تو کس طرح» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے ثنا سوئٹ نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی» میں 21 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

دل خوں ہے دل کا حال رقم ہو تو کس طرحدل سے قلم کا فاصلہ کم ہو تو کس طرح

دل ہے کہیں دماغ کہیں اور ہم کہیںشیرازۂ حیات بہم ہو تو کس طرح

کیوں کہیں کہ درد نہیں حاصل حیاتپیش نظر جو ہے وہ عدم ہو تو کس طرح

دل سے زباں زباں سے چھنی طاقت سخنمائل ادھر مزاج صنم ہو تو کس طرح

دل کش بہت ہے ترک تعلق کا مشورہخود پر مگر یہ طرفہ ستم ہو تو کس طرح

میں اور میرے گرد یہ تنہائی سقراے دل علاج سوز الم ہو تو کس طرح

کیوں ضد ہے شہر یار کو اے عرشؔ اس قدریہ سر کہ وقف دار ہے خم ہو تو کس طرح

— عرش صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں