روشنی بن کے ستاروں میں رواں رہتے ہیں
کلام: عرش صدیقی
روشنی بن کے ستاروں میں رواں رہتے ہیںجسم افلاک میں ہم صورت جاں رہتے ہیں
ہیں دل دہر میں ہم صورت امید نہاںمثل ایماں رخ ہستی پہ عیاں رہتے ہیں
اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی
مہمان شاعر: عرش صدیقی
روشنی بن کے ستاروں میں رواں رہتے ہیںجسم افلاک میں ہم صورت جاں رہتے ہیں
ہیں دل دہر میں ہم صورت امید نہاںمثل ایماں رخ ہستی پہ عیاں رہتے ہیں
دل خوں ہے دل کا حال رقم ہو تو کس طرحدل سے قلم کا فاصلہ کم ہو تو کس طرح
دل ہے کہیں دماغ کہیں اور ہم کہیںشیرازۂ حیات بہم ہو تو کس طرح