ہم حد اندمال سے بھی گئے
کلام: عرش صدیقی
ہم حد اندمال سے بھی گئےاب فریب خیال سے بھی گئے
دل پہ تالا زبان پر پہرایعنی اب عرض حال سے بھی گئے
اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی
مہمان شاعر: عرش صدیقی
ہم حد اندمال سے بھی گئےاب فریب خیال سے بھی گئے
دل پہ تالا زبان پر پہرایعنی اب عرض حال سے بھی گئے
حصار دل سے ادھر بھی حقیقتیں ہیں بہتترے بغیر بھی جینے کی صورتیں ہیں ہیں
ترے غرور کو ہم سے شکایتیں ہیں بجاہم آدمی ہیں ہمیں پست عادتیں ہیں بہت