10 اشعار

ہم حد اندمال سے بھی گئے

Hum had-e-indimal se bhi gaye

ہم حد اندمال سے بھی گئے

«ہم حد اندمال سے بھی گئے» عرش صدیقی کا کلام ہے، جسے ندیم بخاری نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی» میں 21 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 25 سیکنڈ ہے۔

ہم حد اندمال سے بھی گئےاب فریب خیال سے بھی گئے

دل پہ تالا زبان پر پہرایعنی اب عرض حال سے بھی گئے

جام جم کی تلاش لے ڈوبیاپنے جام سفال سے بھی گئے

خوف کم مائیگی برا ہو تراآرزوئے وصال سے بھی گئے

شورش زندگی تمام ہوئیگردش ماہ و سال سے بھی گئے

یوں مٹے ہم کہ اب زوال نہیںشوق اوج کمال سے بھی گئے

ہم نے چاہا تھا تیری چال چلیںہائے ہم اپنی چال سے بھی گئے

حسن فردا خیال و خواب رہااور ماضی و حال سے بھی گئے

ہم تہی دست وقف غم ہیں وہیتنگنائے سوال سے بھی گئے

سجدہ بھی عرشؔ ان کو کر دیکھااس رہ پائمال سے بھی گئے

— عرش صدیقی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں