تھا بہت بے درد لیکن حوصلہ دیتا رہا
کلام: عرش صدیقی
تھا بہت بے درد لیکن حوصلہ دیتا رہاوہ مجھے ہر شب نئے گھر کا پتہ دیتا رہا
میں اسے ڈھونڈا کیا جسموں کی جنت میں مگروہ مجھے خوابوں میں ملنے کی سزا دیتا رہا
اک تیری بے رخی سے زمانہ خفا ہوا عرش صدیقی
مہمان شاعر: عرش صدیقی
تھا بہت بے درد لیکن حوصلہ دیتا رہاوہ مجھے ہر شب نئے گھر کا پتہ دیتا رہا
میں اسے ڈھونڈا کیا جسموں کی جنت میں مگروہ مجھے خوابوں میں ملنے کی سزا دیتا رہا