تسکین دل کا یہ کیا قرینہ
کلام: آرزو لکھنوی
تسکین دل کا یہ کیا قرینہروکوں جو نالہ پھٹ جائے سینہ
بڑھتی امنگیں کیا پر بنیں گیہے کس ہوا میں دل کا سفینہ
پوچھا کہ ان سے چاند نکلتا ہے کس طرح آرزو لکھنوی
مہمان شاعر: آرزو لکھنوی
تسکین دل کا یہ کیا قرینہروکوں جو نالہ پھٹ جائے سینہ
بڑھتی امنگیں کیا پر بنیں گیہے کس ہوا میں دل کا سفینہ
دل میں یاد بت بے پیر لیے بیٹھا ہوںیعنی اک ظلم کی تصویر لیے بیٹھا ہوں
آہ میں درد کی تاثیر لیے بیٹھا ہوںدل میں اک خون بھرا تیر لیے بیٹھا ہوں