7 اشعار

کرچی کرچی خواہشوں کا استعارہ خواب ہے

Karchi karchi khwahishon ka isteara khwab hai

کرچی کرچی خواہشوں کا استعارہ خواب ہے

«کرچی کرچی خواہشوں کا استعارہ خواب ہے» دلاور علی آزر کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)» میں 28 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 53 سیکنڈ ہے۔

کرچی کرچی خواہشوں کا استعارہ خواب ہےآسماں سے گر کے مجھ میں پارہ پارہ خواب ہے

نیند سے پیچھا چھڑا کر آ رہا ہوں میں مگرمیری آنکھوں کے تعاقب میں دوبارہ خواب ہے

خاک سے بنتی ہوئی تصویر ہے تمثیل کیچاک پر رکھے ہوئے پیکر کا گارا خواب ہے

نیند کی کشتی اتر کر گم نہ ہو جائے کہیںوہ سمندر ہوں کہ جس کا ہر کنارہ خواب ہے

خواب ہے پھولوں کا رنگا رنگ ہونا شاخ پرخاک سے اٹھتی ہوئی خوشبو کی دھارا خواب ہے

جو تمہارے ساتھ میں نے رات کاٹی وہم تھیجو تمہارے ساتھ میں نے دن گزارہ خواب ہے

جھانک لو آزرؔ اگر تصدیق کرنا ہے تمہیںاور کیا ہو گا ان آنکھوں میں تمہارا خواب ہے

— دلاور علی آزر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں