7 اشعار

رہتا ہوں رات دن میں یوںہی مست شعر میں

Rehta hun raat din mein yunhi mast sher mein

رہتا ہوں رات دن میں یوںہی مست شعر میں

«رہتا ہوں رات دن میں یوںہی مست شعر میں» دلاور علی آزر کا کلام ہے، جسے افتخار احمد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)» میں 28 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 6 سیکنڈ ہے۔

رہتا ہوں رات دن میں یوںہی مست شعر میںمجھ کو لگانا پڑتی نہیں جست شعر میں

پیمانہ کوئی اور نہیں بن سکا ابھیکرتا ہوں خود کو پیش سر دست شعر میں

ہونے کا اور نہ ہونے کا اس میں سراغ ہےبکھرے پڑے ہیں یوں عدم و ہست شعر میں

اس کے لیے تو دل سے قصیدہ لکھوں گا میںکیوں اس کا تذکرہ ہو کسی پست شعر میں

میری تراش ملتی نہیں ہے کسی سے بھیرکھتا ہوں میں انوکھا در و بست شعر میں

ہم پست قامتوں کا وہاں ذکر کیا کہ جبپیکان تیر میرؔ ہے پیوست شعر میں

کرنا ہے اپنا درد بھی آزرؔ بیاں تجھےلانا ہے قافیہ بھی زبردست شعر میں

— دلاور علی آزر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں