7 اشعار

یہ خرابہ کبھی آباد ہوا کرتا تھا

Ye kharaba kabhi aabad hua karta tha

یہ خرابہ کبھی آباد ہوا کرتا تھا

«یہ خرابہ کبھی آباد ہوا کرتا تھا» دلاور علی آزر کا کلام ہے، جسے ملک افراسیاب نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس سے کچھ خاص تعلق بھی نہیں ہے اپنا (دلاور علی آزر)» میں 28 دسمبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 4 سیکنڈ ہے۔

یہ خرابہ کبھی آباد ہوا کرتا تھامور چگتے تھے یہاں اونٹ وہاں چرتا تھا

رات لے آئی ہے پھر گھور اندھیرے میں اسےان خلاؤں سے مرا چاند بہت ڈرتا تھا

نشۂ حال نے بدمست کیا تھا اس کوآنکھ رکھتا تھا کہیں پاؤں کہیں دھرتا تھا

حبس اتنا تھا کہ کھنچتی ہی نہ تھی سانس کی ڈورزندہ رہنے کی تگ و دو میں جہاں مرتا تھا

جانے تصویر سے کیا شکل نکل آئی تھیرنگ بھرتے ہوئے آہیں بھی کوئی بھرتا تھا

یہ نیا دور ہے ورنہ تو گئے وقتوں میںپھول خوشبو کا نمائندہ ہوا کرتا تھا

اب مجھے یاد نہیں زیست کا معنی آزرؔمیں نے اس لفظ کو عجلت میں کہیں برتا تھا

— دلاور علی آزر

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں