4 اشعار

اب جو کوئی پوچھے بھی تو اس سے کیا شرح حالات کریں

Ab jo koi poochhe bhi to us se kya sharh-e-halat karein

اب جو کوئی پوچھے بھی تو اس سے کیا شرح حالات کریں

«اب جو کوئی پوچھے بھی تو اس سے کیا شرح حالات کریں» فیض احمد فیض کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 34 سیکنڈ ہے۔

اب جو کوئی پوچھے بھی تو اس سے کیا شرح حالات کریںدل ٹھہرے تو درد سنائیں درد تھمے تو بات کریں

شام ہوئی پھر جوش قدح نے بزم حریفاں روشن کیگھر کو آگ لگائیں ہم بھی روشن اپنی رات کریں

قتل دل و جاں اپنے سر ہے اپنا لہو اپنی گردن پہمہر بہ لب بیٹھے ہیں کس کا شکوہ کس کے ساتھ کریں

ہجر میں شب بھر درد و طلب کے چاند ستارے ساتھ رہےصبح کی ویرانی میں یارو کیسے بسر اوقات کریں

— فیض احمد فیض