5 اشعار

اب کے برس دستور ستم میں کیا کیا باب ایزاد ہوئے

Ab ke baras dastoor-e-sitam mein kya kya baab ijaad hue

اب کے برس دستور ستم میں کیا کیا باب ایزاد ہوئے

«اب کے برس دستور ستم میں کیا کیا باب ایزاد ہوئے» فیض احمد فیض کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 43 سیکنڈ ہے۔

اب کے برس دستور ستم میں کیا کیا باب ایزاد ہوئےجو قاتل تھے مقتول ہوئے جو صید تھے اب صیاد ہوئے

پہلے بھی خزاں میں باغ اجڑے پر یوں نہیں جیسے اب کے برسسارے بوٹے پتہ پتہ روش روش برباد ہوئے

پہلے بھی طواف شمع وفا تھی رسم محبت والوں کیہم تم سے پہلے بھی یہاں منصورؔ ہوئے فرہادؔ ہوئے

اک گل کے مرجھانے پر کیا گلشن میں کہرام مچااک چہرہ کمھلا جانے سے کتنے دل ناشاد ہوئے

فیضؔ نہ ہم یوسفؔ نہ کوئی یعقوبؔ جو ہم کو یاد کرےاپنی کیا کنعاں میں رہے یا مصر میں جا آباد ہوئے

— فیض احمد فیض