9 اشعار

اب وہی حرف جنوں سب کی زباں ٹھہری ہے

Ab wahi harf-e-junoon sab ki zaban thehri hai

اب وہی حرف جنوں سب کی زباں ٹھہری ہے

«اب وہی حرف جنوں سب کی زباں ٹھہری ہے» فیض احمد فیض کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 31 سیکنڈ ہے۔

اب وہی حرف جنوں سب کی زباں ٹھہری ہےجو بھی چل نکلی ہے وہ بات کہاں ٹھہری ہے

آج تک شیخ کے اکرام میں جو شے تھی حراماب وہی دشمن دیں راحت جاں ٹھہری ہے

ہے خبر گرم کہ پھرتا ہے گریزاں ناصحگفتگو آج سر کوئے بتاں ٹھہری ہے

ہے وہی عارض لیلیٰ وہی شیریں کا دہننگہ شوق گھڑی بھر کو جہاں ٹھہری ہے

وصل کی شب تھی تو کس درجہ سبک گزری تھیہجر کی شب ہے تو کیا سخت گراں ٹھہری ہے

بکھری اک بار تو ہاتھ آئی ہے کب موج شمیمدل سے نکلی ہے تو کب لب پہ فغاں ٹھہری ہے

دست صیاد بھی عاجز ہے کف گلچیں بھیبوئے گل ٹھہری نہ بلبل کی زباں ٹھہری ہے

آتے آتے یوں ہی دم بھر کو رکی ہوگی بہارجاتے جاتے یوں ہی پل بھر کو خزاں ٹھہری ہے

ہم نے جو طرز فغاں کی ہے قفس میں ایجادفیضؔ گلشن میں وہی طرز بیاں ٹھہری ہے

— فیض احمد فیض