6 اشعار

بات بس سے نکل چلی ہے

Baat bas se nikal chali hai

بات بس سے نکل چلی ہے

«بات بس سے نکل چلی ہے» فیض احمد فیض کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

بات بس سے نکل چلی ہےدل کی حالت سنبھل چلی ہے

اب جنوں حد سے بڑھ چلا ہےاب طبیعت بہل چلی ہے

اشک خوناب ہو چلے ہیںغم کی رنگت بدل چلی ہے

یا یوں ہی بجھ رہی ہیں شمعیںیا شب ہجر ٹل چلی ہے

لاکھ پیغام ہو گئے ہیںجب صبا ایک پل چلی ہے

جاؤ اب سو رہو ستارودرد کی رات ڈھل چلی ہے

— فیض احمد فیض