5 اشعار

دربار میں اب سطوت شاہی کی علامت

Darbar mein ab satwat-e-shahi ki alamat

دربار میں اب سطوت شاہی کی علامت

«دربار میں اب سطوت شاہی کی علامت» فیض احمد فیض کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 47 سیکنڈ ہے۔

دربار میں اب سطوت شاہی کی علامتدرباں کا عصا ہے کہ مصنف کا قلم ہے

آوارہ ہے پھر کوہ ندا پر جو بشارتتمہید مسرت ہے کہ طول شب غم ہے

جس دھجی کو گلیوں میں لیے پھرتے ہیں طفلاںیہ میرا گریباں ہے کہ لشکر کا علم ہے

جس نور سے ہے شہر کی دیوار درخشاںیہ خون شہیداں ہے کہ زر خانۂ جم ہے

حلقہ کیے بیٹھے رہو اک شمع کو یاروکچھ روشنی باقی تو ہے ہر چند کہ کم ہے

— فیض احمد فیض