5 اشعار

دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں

Dil mein ab yun tere bhoole hue gham aate hain

دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں

«دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیں» فیض احمد فیض کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 37 سیکنڈ ہے۔

دل میں اب یوں ترے بھولے ہوئے غم آتے ہیںجیسے بچھڑے ہوئے کعبہ میں صنم آتے ہیں

ایک اک کر کے ہوئے جاتے ہیں تارے روشنمیری منزل کی طرف تیرے قدم آتے ہیں

رقص مے تیز کرو ساز کی لے تیز کروسوئے مے خانہ سفیران حرم آتے ہیں

کچھ ہمیں کو نہیں احسان اٹھانے کا دماغوہ تو جب آتے ہیں مائل بہ کرم آتے ہیں

اور کچھ دیر نہ گزرے شب فرقت سے کہودل بھی کم دکھتا ہے وہ یاد بھی کم آتے ہیں

— فیض احمد فیض