6 اشعار

گرمئ شوق نظارہ کا اثر تو دیکھو

Garmi-e-shauq-e-nazaara ka asar to dekho

گرمئ شوق نظارہ کا اثر تو دیکھو

«گرمئ شوق نظارہ کا اثر تو دیکھو» فیض احمد فیض کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 45 سیکنڈ ہے۔

گرمئ شوق نظارہ کا اثر تو دیکھوگل کھلے جاتے ہیں وہ سایۂ تر تو دیکھو

ایسے ناداں بھی نہ تھے جاں سے گزرنے والےناصحو پند گرو راہ گزر تو دیکھو

وہ تو وہ ہے تمہیں ہو جائے گی الفت مجھ سےاک نظر تم مرے محبوب نظر تو دیکھو

وہ جو اب چاک گریباں بھی نہیں کرتے ہیںدیکھنے والو کبھی ان کا جگر تو دیکھو

دامن درد کو گلزار بنا رکھا ہےآؤ اک دن دل پرخوں کا ہنر تو دیکھو

صبح کی طرح جھمکتا ہے شب غم کا افقفیضؔ تابندگئ دیدۂ تر تو دیکھو

— فیض احمد فیض