5 اشعار

گو سب کو بہم ساغر و بادہ تو نہیں تھا

Go sab ko baham saghar-o-bada to nahin tha

گو سب کو بہم ساغر و بادہ تو نہیں تھا

«گو سب کو بہم ساغر و بادہ تو نہیں تھا» فیض احمد فیض کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 36 سیکنڈ ہے۔

گو سب کو بہم ساغر و بادہ تو نہیں تھایہ شہر اداس اتنا زیادہ تو نہیں تھا

گلیوں میں پھرا کرتے تھے دو چار دوانےہر شخص کا صد چاک لبادہ تو نہیں تھا

منزل کو نہ پہچانے رہ عشق کا راہیناداں ہی سہی ایسا بھی سادہ تو نہیں تھا

تھک کر یوں ہی پل بھر کے لیے آنکھ لگی تھیسو کر ہی نہ اٹھیں یہ ارادہ تو نہیں تھا

واعظ سے رہ و رسم رہی رند سے صحبتفرق ان میں کوئی اتنا زیادہ تو نہیں تھا

— فیض احمد فیض