7 اشعار

گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے

Gulon mein rang bhare baad-e-nau bahar chale

گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے

«گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلے» فیض احمد فیض کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 58 سیکنڈ ہے۔

گلوں میں رنگ بھرے باد نوبہار چلےچلے بھی آؤ کہ گلشن کا کاروبار چلے

قفس اداس ہے یارو صبا سے کچھ تو کہوکہیں تو بہر خدا آج ذکر یار چلے

کبھی تو صبح ترے کنج لب سے ہو آغازکبھی تو شب سر کاکل سے مشکبار چلے

بڑا ہے درد کا رشتہ یہ دل غریب سہیتمہارے نام پہ آئیں گے غم گسار چلے

جو ہم پہ گزری سو گزری مگر شب ہجراںہمارے اشک تری عاقبت سنوار چلے

حضور یار ہوئی دفتر جنوں کی طلبگرہ میں لے کے گریباں کا تار تار چلے

مقام فیضؔ کوئی راہ میں جچا ہی نہیںجو کوئے یار سے نکلے تو سوئے دار چلے

— فیض احمد فیض