5 اشعار

حیراں ہے جبیں آج کدھر سجدہ روا ہے

Hairan hai jabeen aaj kidhar sajda rawa hai

حیراں ہے جبیں آج کدھر سجدہ روا ہے

«حیراں ہے جبیں آج کدھر سجدہ روا ہے» فیض احمد فیض کا کلام ہے، جسے یہاں آواز میں بھی سنا جا سکتا ہے۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 55 سیکنڈ ہے۔

حیراں ہے جبیں آج کدھر سجدہ روا ہےسر پر ہیں خداوند سر عرش خدا ہے

کب تک اسے سینچو گے تمنائے ثمر میںیہ صبر کا پودا تو نہ پھولا نہ پھلا ہے

ملتا ہے خراج اس کو تری نان جویں سےہر بادشہ وقت ترے در کا گدا ہے

ہر ایک عقوبت سے ہے تلخی میں سوا تروہ رنگ جو ناکردہ گناہوں کی سزا ہے

احسان لیے کتنے مسیحا نفسوں کےکیا کیجیے دل کا نہ جلا ہے نہ بجھا ہے

— فیض احمد فیض